اچار

Benefits of Pickles, Uses And Its Side Effects

Guest post

غریبوں کے گھر سالن بنانے کا رواج کم ہوتا ہے۔ سبزی خریدنے ، مصالحے ، گھی اور لکڑی آگ کے خرچ میں پڑنے سے بچتے ہوئے زیادہ تر سبز پتوں کی کچی چٹنی یا املی لسوڑے کے تھوڑے سے اچار کے ساتھ چپاتیاں کھا کر پیٹ بھر لیتے ہیں۔ اسے اچار بہت پسند تھا ۔ گاؤں میں اچار بنانے والی ماسی دولتاں کے گھر سے کبھی کبھار ایک آدھ پلیٹ ان کے گھر آجاتی تھی۔

pickle recipe

مگر زیادہ افراد ہونے کی وجہ سے گھر کے تمام لوگوں میں جب تقسیم ہوتا تو ہر ایک کے حصے میں املی کا چھوٹا سا ٹکڑا ہی آتا یا ایک آدھ کے حصے میں لسوڑے کا دانہ آجاتا یا گاجر کی کوئی چھوٹی سی ٹکڑی ۔ اس کا بڑا جی کرتا کہ وہ روٹی کے ساتھ سیر ہو کے اچار کھائے ۔ وہ اکثر کہا کرتی کہ ” میرے بچوں کی جب نوکریاں لگ جائیں گی تو میں بھی ماسی دولتاں سے اچار کی ایک بڑی بالٹی خریدوں گی اور سارا اچار خود کھاؤں گی۔ “وقت گزرتا گیا اس کے بچوں کی تعلیم مکمل ہو گئی ۔

اچار

شہر میں اچھی نوکریاں بھی مل گئیں۔ اس کے بیٹوں نے اس کے اور اس کے خاوند کے لیے ایک کمرہ چھوڑ کر باقی کا مکان بیچ دیا۔ ایک دن تیز آندھی اور طوفان نے ان میاں بیوی کی اس بوسیدہ سی اکلوتی چھت کو لے اڑایا ۔ گاؤں کے وڈیرے نے ان کو اپنی حویلی کے فارغ کھڑے پرانے کمروں میں سے ایک میں پناہ دے دی۔ وڈیرے کا اچار کا کاروبار تھا۔

حویلی میں ہر سو اچار کی خوشبو پھیلی رہتی۔ وہ اچار بنانے والوں کے ساتھ کام بھی کر دیا کرتی ۔ اسے اب اچار کی کوئی کمی نہیں تھی۔ جب چاہتی جی بھر کے چپاتیوں کے ساتھ اچار کھا سکتی تھی۔ مگر اب اسے اچار اچھا نہیں لگتا تھا

رابعہ وحید

Leave a Reply